جماد

قسم کلام: اسم مادہ

معنی

١ - بے جان چیزیں۔ "مادہ . پہلے جماد بنا پھر نبات کی شکل میں آیا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٤٠:٤ ) ٢ - [ مجازا ]  بے حسی، جمود۔ "کسی نشے کی کثرت نہ کرے اور عادت نہ ڈالے نہیں تو خاصیت جماد کی پیدا کرے گا۔"      ( ١٨٠٥ء، آرایش محفل، افسوس، ٣٠٥ ) ٣ - پتھر، پہاڑ، زمین وغیرہ۔  وہ طرفہ حال کہ جس سے جماد رقص کرے نہ رنگ بھی متغیر ہو اہل تمکین کا      ( ١٨٦٩ء، شیفتہ، دیوان، ٤ ) ٤ - وہ مادی چیزیں جو یکساں حالت پر ہوں اور جن میں نمونہ نہ پایا جاتا ہو، دھات، معدنیات وغیرہ۔ "مادیات کی دو قسمیں ہیں نامی یعنی بالندہ اور غیر نامی یعنی جماد۔"      ( ١٨٧١ء، مبادی الحکمۃ، ٣٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصل معنی اور حالت میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٥ء میں "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے جان چیزیں۔ "مادہ . پہلے جماد بنا پھر نبات کی شکل میں آیا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٤٠:٤ ) ٢ - [ مجازا ]  بے حسی، جمود۔ "کسی نشے کی کثرت نہ کرے اور عادت نہ ڈالے نہیں تو خاصیت جماد کی پیدا کرے گا۔"      ( ١٨٠٥ء، آرایش محفل، افسوس، ٣٠٥ ) ٤ - وہ مادی چیزیں جو یکساں حالت پر ہوں اور جن میں نمونہ نہ پایا جاتا ہو، دھات، معدنیات وغیرہ۔ "مادیات کی دو قسمیں ہیں نامی یعنی بالندہ اور غیر نامی یعنی جماد۔"      ( ١٨٧١ء، مبادی الحکمۃ، ٣٦ )

اصل لفظ: جمد
جنس: مذکر