جناب

قسم کلام: ضمیر شخصی ( واحد )

معنی

١ - آپ یا حضور کی جگہ اکثر (طنزاً)۔  بس ہو چکی امید وفا آپ سے ہمیں بدلے ہوے ہیں ڈھنگ ابھی سے جناب کے      ( ١٨٦٥ء، نسیم دہلوی، دیوان، ٢٠٥ ) ١ - [ تعظیما ]  نام سے پہلے حضرت یا قبلہ کی جگہ۔ "میرے باپ جناب مولوی نذیر احمد صاحب کے لیکچروں کا مجموعہ دو جلدوں میں . شائع کیا۔"      ( ١٩١٨ء، لکچروں کا مجموعہ (دیباچہ)، ٩:١ ) ١ - آستانہ، بارگاہ، چوکھٹ، جائے پناہ۔  گھستی جبیں جہاں ہے جا کر شہنشہی بھی اللہ کی کچھ ایسی اونچی جناب لکھی      ( ١٩٠٦ء، مخزن، اگست، ٥٧ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اور عربی سے اردو میں اصلی حالت میں ہی ماخوذ ہے اور بطور اسم اور اسم صفت اور گا ہے بطور ضمیر مستعمل ہے۔ ١٨٠٢ء میں "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ تعظیما ]  نام سے پہلے حضرت یا قبلہ کی جگہ۔ "میرے باپ جناب مولوی نذیر احمد صاحب کے لیکچروں کا مجموعہ دو جلدوں میں . شائع کیا۔"      ( ١٩١٨ء، لکچروں کا مجموعہ (دیباچہ)، ٩:١ )