جنونی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - دیوانہ، خبطی، پاگل۔  جنونی، خبطی، دیوانہ سڑی کوئی عشق کو سمجھے فلاطون سے نہیں یاں بحث و عاقل ہے کیا جانے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٣٧ ) ٢ - مجنونانہ، پاگل پن کا۔ "فرمایا کہ میری اس خاک آلود، نحیف و زار برہنہ اور جنونی ہیئت کو اپنے لوح دل پر نقش کر لو۔"      ( ١٩٢٢ء، غریبوں کا آسرا، ٣٦٠ ) ٣ - غصہ ور، ظالم، آپے سے گزرا ہوا۔ "وہ ایک جنونی آدمی ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، انتخاب لاجواب، ٢٨ مئی، ١٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جنون' کے آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگنے سے 'جنونی' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٨١٠ء میں "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - مجنونانہ، پاگل پن کا۔ "فرمایا کہ میری اس خاک آلود، نحیف و زار برہنہ اور جنونی ہیئت کو اپنے لوح دل پر نقش کر لو۔"      ( ١٩٢٢ء، غریبوں کا آسرا، ٣٦٠ ) ٣ - غصہ ور، ظالم، آپے سے گزرا ہوا۔ "وہ ایک جنونی آدمی ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، انتخاب لاجواب، ٢٨ مئی، ١٧ )

اصل لفظ: جُنُون