جنگ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - محویت، جوش، دُھن۔ "وہ اپنی جنگ میں تھی اس کو کسی کی کیا خبر"۔      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات ) ١ - بیاض، جس میں اشعار درج ہوں، پشتارہ، بنڈل، طبلق۔ "وہ ایک جنگ نکال لائے تھے کہ یہ حدیثیں ہیں جو میں نے آنحضرتۖ سے سن کر لکھ لی تھیں"۔      ( سیرۃ النبی، شبلی، ١٤:١ ) ٢ - ایک جلد جس میں کئی کتابیں ہوں۔

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں آیا اور جب اردو ادب عام ہوا لوگ اس کی ضرورت محسوس کرنے لگے اور اس لفظ کو شامل کر لیا گیا۔ ١٨٨٧ء میں "خیابان آفرینش" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - محویت، جوش، دُھن۔ "وہ اپنی جنگ میں تھی اس کو کسی کی کیا خبر"۔      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات ) ١ - بیاض، جس میں اشعار درج ہوں، پشتارہ، بنڈل، طبلق۔ "وہ ایک جنگ نکال لائے تھے کہ یہ حدیثیں ہیں جو میں نے آنحضرتۖ سے سن کر لکھ لی تھیں"۔      ( سیرۃ النبی، شبلی، ١٤:١ )

جنس: مؤنث