جوان

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جو عمر بلوغ کو پہنچ چکا ہو اور ادھیڑ عمر کا یا بوڑھا نہ ہوا ہو، عموماً 18 سال سے 40 سال تک کا، نو عمر، بالغ، سیانا۔ " انہوں نے عرض کیا جواں آدمی ہے میری نہیں سنتا"۔      ( ١٩٣٩ء، تذکرہ کاملان رام پور، ٤٠١ ) ٢ - [ مجازا ]  قوی، مضبوط، نیا، تازہ  تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جوان کر لوں یہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں      ( ١٩٤٦ء، طیور آوارہ، ٦٦ ) ٣ - سپاہی، فوجی۔ "پولیس کی وردیاں بہت خوشنما اور جوان بھی اچھے ہیں"      ( ١٩١١ء، روزنامچہ سیاحت، ٣٠:١ )

اشتقاق

فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں داخل ہوا اور اردو میں استعمال ہونے لگا۔ سب سے پہلے "قطب مشتری" میں ١٦٠٩ء میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جو عمر بلوغ کو پہنچ چکا ہو اور ادھیڑ عمر کا یا بوڑھا نہ ہوا ہو، عموماً 18 سال سے 40 سال تک کا، نو عمر، بالغ، سیانا۔ " انہوں نے عرض کیا جواں آدمی ہے میری نہیں سنتا"۔      ( ١٩٣٩ء، تذکرہ کاملان رام پور، ٤٠١ ) ٣ - سپاہی، فوجی۔ "پولیس کی وردیاں بہت خوشنما اور جوان بھی اچھے ہیں"      ( ١٩١١ء، روزنامچہ سیاحت، ٣٠:١ )