جوبن

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شباب، جوانی کا اٹھان ابھار یا آغاز، اٹھتی جوانی۔ "حسن دو روزہ جوبن پہ اکڑ جاتے ہیں۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٩٢ ) ٢ - حسن و جمال، خوبصورتی، بانکپن۔ "ہاتھوں اور پاؤں میں رنگ حنا عجب جو بن دکھاتا تھا۔"    ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢٦٦ ) ٣ - تروتازگی، بہار، نکھار، رونق۔ "کھاد ہمیشہ ایسے موسم میں دی جائے جبکہ پودوں کی نشوونما کا موسم جوبن پر ہو۔"    ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٦٠٢ ) ٤ - رنگ ڈھنگ، عالم، کیفیت، سج دھج۔  چشم میگون و صراحی بہ بغل جام بکف دیکھتا آج وہ گل آتا ہے کس جوبن سے      ( ١٩٥٤ء، ذوق، دیوان، ٣٠٨ ) ١ - شاداب، تروتازہ۔ "حضور چوزے ہیں دونوں مال جوبن ہیں۔"      ( ١٨٨٧ء، جام سرشار، ١١ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'یودن' سے ماخوذ 'جوبن' اردو میں بطور اسم اور گا ہے بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شباب، جوانی کا اٹھان ابھار یا آغاز، اٹھتی جوانی۔ "حسن دو روزہ جوبن پہ اکڑ جاتے ہیں۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٩٢ ) ٢ - حسن و جمال، خوبصورتی، بانکپن۔ "ہاتھوں اور پاؤں میں رنگ حنا عجب جو بن دکھاتا تھا۔"    ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢٦٦ ) ٣ - تروتازگی، بہار، نکھار، رونق۔ "کھاد ہمیشہ ایسے موسم میں دی جائے جبکہ پودوں کی نشوونما کا موسم جوبن پر ہو۔"    ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٦٠٢ ) ١ - شاداب، تروتازہ۔ "حضور چوزے ہیں دونوں مال جوبن ہیں۔"      ( ١٨٨٧ء، جام سرشار، ١١ )

اصل لفظ: یوون
جنس: مذکر