جوشاندہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ طب ]  جوش دی ہوئی دوا، کاڑھا۔ "نہ ٹھنڈائی نہ دوائی معجون نہ جوشاندہ کسی شے کا بھی نہ استعمال ہوا۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٥٣ ) ٢ - [ مجازا ]  کڑوی کسیلی چیز۔ "انہوں نے وعظ کے جوشاندے کی بجائے لوگوں کو کھٹی میٹھی گولیاں دیں۔"      ( ١٩٦٨ء، نگاہ اور نقطے، ٢٧٠ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٨ء کو "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ طب ]  جوش دی ہوئی دوا، کاڑھا۔ "نہ ٹھنڈائی نہ دوائی معجون نہ جوشاندہ کسی شے کا بھی نہ استعمال ہوا۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٥٣ ) ٢ - [ مجازا ]  کڑوی کسیلی چیز۔ "انہوں نے وعظ کے جوشاندے کی بجائے لوگوں کو کھٹی میٹھی گولیاں دیں۔"      ( ١٩٦٨ء، نگاہ اور نقطے، ٢٧٠ )

جنس: مذکر