جپنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - تسبیح پڑھنا، مالا پھیرنا، بار بار پڑھنا، ورد کرنا۔  دل میں پاتے ہیں بتوں کی آرزو منہ سے جپتے ہیں خدا کا نام ہم      ( ١٩٣٨ء، نغمۂ فردوس، ٣٩:٢ ) ٢ - یاد کرنا، (کسی بات کو) دہرانا، ذکر کرنا۔  بس حب وطن کا جپ چکے نام بہت اب کام کرو کہ وقت ہے کام کا یہ      ( ١٩١٤ء، حالی مکتوباب، ٢٧ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'جلپ' سے ماخوذ 'جپ' کے ساتھ اردو علامت مصدر 'نا' لگنے سے 'جپنا' بنا اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: جلپ(ت)