جگ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہنود کے مجوزہ چار زمانوں (ست جگ، تریتا جگ، دواپر جگ اور کلجگ) میں سے ہر ایک زمانہ جگ کہلاتا ہے۔  چوستی آئی ہے جو ہر جگ کے راون کے لہو پھر وہ کالی آج کلکتہ میں پرگٹ ہو گئی      ( ١٩٣٠ء، بہارستان، ٧٨٩ ) ٢ - [ مجازا ] قرن، صدی، زمانہ، دراز۔  اسی خواہش میں جگ بیتے کہ جیتے جی ملیں گے تم سے حریفوں نے عجب چوسر بچھائی آج ہم تم میں    ( ١٧٩٢ء، محب دہلوی، دیوان، ٤٨٦ ) ٣ - کافی لمبی مدت یا عرصہ۔ "آپ کہیں گے کہ ایک جگ کے بعد میں نے آپ پر اثبات وجود کیا بھی تو اس انداز سے۔"    ( ١٩١٤ء، مذاکرات نیاز فتحپوری، ٢٠ ) ٤ - جوا (ہل کا)؛ ایک ماپ جو چار ہاتھ کے برابر ہوتا ہے؛ عدد چار (4) اور کبھی بارہ (12) کا علامتی اظہار؛ پیڑھی، پشت۔ (جامع اللغات؛ پلیٹس)

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'یوگن' سے ماخو اردو میں اصل معنی میں ہی 'جگ' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٢ء میں محب دہلوی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - کافی لمبی مدت یا عرصہ۔ "آپ کہیں گے کہ ایک جگ کے بعد میں نے آپ پر اثبات وجود کیا بھی تو اس انداز سے۔"    ( ١٩١٤ء، مذاکرات نیاز فتحپوری، ٢٠ )

اصل لفظ: یوگن
جنس: مذکر