جگری

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - جگر سے منسوب یا متعلق، (مجازاً) سچا، پیارا، مخلص۔ "حامد میرا دوست تھا اور دوست بھی کیسا کہ جگری دوست۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٧٦:٥ ) ٢ - اندرونی، دلی، گہرا۔  دل سے کبھی مٹنے کا نہیں داغ محبت دھبا یہ نگینے میں ہمارے جگری ہے      ( ١٨٩٠ء، دیوان صفی، ١١٩ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'جگر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگنے سے 'جگری' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٥ء میں "انشائے ہادی النسا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جگر سے منسوب یا متعلق، (مجازاً) سچا، پیارا، مخلص۔ "حامد میرا دوست تھا اور دوست بھی کیسا کہ جگری دوست۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٧٦:٥ )

اصل لفظ: جِگَر