جھانسا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دھوکا، فریب، جل۔  ہر روز نئے وعدے ہر وقت نئے جھانسے اتوار کو منگل ہے منگل کو سنیچر ہے      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٢٧٧ ) ٢ - شوق، اشتیاق، آرزو، شدید خواہش۔  اے زاہد تو بی لیکے رہبر کا کانسا ترے دل سوں دنیاں کا جاویگا جھانسا      ( ١٨١٤ء، دیوان الا اللہ شعاری، )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'ادھیاس' سے ماخوذ 'جھانسا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: ادھیاس
جنس: مذکر