جھاڑا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی چیز کو تلاش کرنے کے لیے گھر بار یا کسی شخص کے کپڑے وغیرہ اچھی طرح دیکھنا، تلاشی، جامہ تلاشی، خانہ تلاشی۔ "پہرے داروں نے اسے پکڑ کر اس کا جھاڑا لیا۔"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤٢٩:٦ ) ٢ - صاف کرنا، جھاڑنا۔ (جامع اللغات) ٥ - تفصیلی کیفیت یا حال۔ "زمین کے کرہ کا جھاڑہ صوبجات اور ملکوں اور دریا وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے۔"      ( ١٨٥٦ء، فوائدالصبیان، ٦١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'جھاڑ' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقہ نسبت لگانے سے 'جھاڑا' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٤ء میں "بیدار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی چیز کو تلاش کرنے کے لیے گھر بار یا کسی شخص کے کپڑے وغیرہ اچھی طرح دیکھنا، تلاشی، جامہ تلاشی، خانہ تلاشی۔ "پہرے داروں نے اسے پکڑ کر اس کا جھاڑا لیا۔"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤٢٩:٦ ) ٥ - تفصیلی کیفیت یا حال۔ "زمین کے کرہ کا جھاڑہ صوبجات اور ملکوں اور دریا وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے۔"      ( ١٨٥٦ء، فوائدالصبیان، ٦١ )

اصل لفظ: جھاڑ
جنس: مذکر