جھری
معنی
١ - شگاف، دوز، چاک۔ "دونوں کواڑوں میں اتنی جھری رہتی تھی کہ ایک ٹانگ آسانی سے اندر چلی جائے۔" ( ١٩٣٢ء، اخوان الشیاطین، ١٢١ ) ٢ - [ طب ] پہلو کا حجاب دار گڑھا۔ "اور ان کے درمیان کی تنگ جھری کو حجابی ضلعی جوف کہتے ہیں۔" ( ١٩٣٤ء، احشائیات، ٣٥ ) ٣ - [ انجینیرنگ ] دراڑ، راستہ۔ "ری لیف رنگ کے باہر کی طرف جو فلینج ہوتا ہے اس سے جھری 'بی' کی باٹم بنتی ہے جو کہ گیس کٹ سے پیک کی جاتی ہے۔" ( ١٩٠٦ء، پریکٹیکل انجینیرز، ٤٣٧:٢ ) ٤ - درمیانی شگاف، پھٹاؤ، شق۔ "اس تقاطع کے لیول سے اوپر یہ جھری اوپر کو جس کے زیریں کنارے تک جاتی ہے۔" ( ١٩٤٥ء، پریکٹیکل اٹاٹومی، (ترجمہ) ٤٢٧:٣ ) ٥ - چھید، سوراخ، بناوٹ میں کھلی جگہ۔ "بانوں کی قیچیاں اونٹوں پر جن کی جھریاں جو اہرکار جواناں مرصع پوش . سج دھج دکھاتے آگے بڑھے۔" ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٥٧:١ ) ٦ - کوئی چیز ٹکانے کے لیے بنی ہوئی درز۔ "اس میں پیچ کس کی دھار رکھنے کے لیے ایک جھری ہوتی ہے۔" ( ١٩٦٣ء، لکڑی کا کام، ١٠:١ ) ١٠ - سلائی بٹائی میں نکلی ہوئی ریشم کے تاروں کی چھٹن یا چھیج جو بعض معمولی کاموں میں استعمال ہوتی ہے۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 24:2)
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'کشر+ایکا' سے ماخوذ 'جھری' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتی ہے۔ ١٨٨٢ء کو "طلسم ہوشربا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - شگاف، دوز، چاک۔ "دونوں کواڑوں میں اتنی جھری رہتی تھی کہ ایک ٹانگ آسانی سے اندر چلی جائے۔" ( ١٩٣٢ء، اخوان الشیاطین، ١٢١ ) ٢ - [ طب ] پہلو کا حجاب دار گڑھا۔ "اور ان کے درمیان کی تنگ جھری کو حجابی ضلعی جوف کہتے ہیں۔" ( ١٩٣٤ء، احشائیات، ٣٥ ) ٣ - [ انجینیرنگ ] دراڑ، راستہ۔ "ری لیف رنگ کے باہر کی طرف جو فلینج ہوتا ہے اس سے جھری 'بی' کی باٹم بنتی ہے جو کہ گیس کٹ سے پیک کی جاتی ہے۔" ( ١٩٠٦ء، پریکٹیکل انجینیرز، ٤٣٧:٢ ) ٤ - درمیانی شگاف، پھٹاؤ، شق۔ "اس تقاطع کے لیول سے اوپر یہ جھری اوپر کو جس کے زیریں کنارے تک جاتی ہے۔" ( ١٩٤٥ء، پریکٹیکل اٹاٹومی، (ترجمہ) ٤٢٧:٣ ) ٥ - چھید، سوراخ، بناوٹ میں کھلی جگہ۔ "بانوں کی قیچیاں اونٹوں پر جن کی جھریاں جو اہرکار جواناں مرصع پوش . سج دھج دکھاتے آگے بڑھے۔" ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٥٧:١ ) ٦ - کوئی چیز ٹکانے کے لیے بنی ہوئی درز۔ "اس میں پیچ کس کی دھار رکھنے کے لیے ایک جھری ہوتی ہے۔" ( ١٩٦٣ء، لکڑی کا کام، ١٠:١ )