جھمکیلا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - چمکیلا، شان دار۔ "ان کے شہید ہونے یا وفات کے بعد وہ جھمکیلے اور فوق البھڑک الفاظ میں . حالات کو رنگا جاتا تھا۔"      ( ١٩١١ء، معلم ثانی، ٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'جھمک' کے ساتھ 'یلا' بطور لاحقہ صفت لگانے سے 'جھمکیلا' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩١١ء میں "معلم ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چمکیلا، شان دار۔ "ان کے شہید ہونے یا وفات کے بعد وہ جھمکیلے اور فوق البھڑک الفاظ میں . حالات کو رنگا جاتا تھا۔"      ( ١٩١١ء، معلم ثانی، ٣ )

اصل لفظ: جَھمَک