جھنڈی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جھنڈا کی تصغیر، چھوٹا جھنڈا (کپڑے یا کاغذ کا)۔ "جب ایک ہی جھنڈی میں تین چار پٹیاں برابر برابر لگائیں گے تو برطانوی جھنڈی ہو جائے گی۔"      ( ١٩٣٣ء، زندگی، ١١ ) ٢ - کپڑے یا کاغذ کی بنی ہوئی رنگ برنگ کی پٹیاں جو خوشی کے موقع پر زیب و زینت کے لیے مناسب جگہوں پر باندھتے اور لٹکاتے ہیں، بندروالی، بندھن وار۔ "خوشی میں جہاز پر رنگ برنگ کی جھنڈیاں لگائی گئیں۔"      ( ١٩٣٥ء، عبرت نامۂ اندلس، ٣٣٠ ) ٣ - کپڑا لگی ہوئی چھڑی جو کسی بھی کام میں نشانی کے طور پر استعمال کی جاتی ہو۔ "جھنڈیاں بھی مساح کے ساتھ ہوئی ضروری ہیں۔"      ( ١٨٧٦ء مصباح المساحت، ٦:٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'جھنڈا' کا 'ا' حذف کر کے 'ی' بطور 'لاحقۂ تصغیر' لگانے سے 'جھنڈی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٢٧ء کو "ہدایت المومنین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جھنڈا کی تصغیر، چھوٹا جھنڈا (کپڑے یا کاغذ کا)۔ "جب ایک ہی جھنڈی میں تین چار پٹیاں برابر برابر لگائیں گے تو برطانوی جھنڈی ہو جائے گی۔"      ( ١٩٣٣ء، زندگی، ١١ ) ٢ - کپڑے یا کاغذ کی بنی ہوئی رنگ برنگ کی پٹیاں جو خوشی کے موقع پر زیب و زینت کے لیے مناسب جگہوں پر باندھتے اور لٹکاتے ہیں، بندروالی، بندھن وار۔ "خوشی میں جہاز پر رنگ برنگ کی جھنڈیاں لگائی گئیں۔"      ( ١٩٣٥ء، عبرت نامۂ اندلس، ٣٣٠ ) ٣ - کپڑا لگی ہوئی چھڑی جو کسی بھی کام میں نشانی کے طور پر استعمال کی جاتی ہو۔ "جھنڈیاں بھی مساح کے ساتھ ہوئی ضروری ہیں۔"      ( ١٨٧٦ء مصباح المساحت، ٦:٢ )

اصل لفظ: جھنڈا
جنس: مؤنث