جھوٹ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - غلط۔ "یہ بات صریحاً جھوٹ ہے"۔     "ایک بات سچ ہے اور دوسری جھوٹ، صفا جھوٹ"۔      ( ١٨٤٨ء تاریخ ممالک چین، ٤٩ )( ١٩٦٣ء، اداس نسلیں، عبداللہ حسین، ٤٦٧ ) ٢ - بہکانے والی بات، جھوٹ موٹ۔  ہاں نہیں جھوٹ، رہی دونوں سے برسوں تیری مجھ سے اقرار رہا، غیر سے انکار رہا ٣ - پس خوردہ، کھا کر چھوڑا ہوا۔      "ان کے ہاں عورتوں کو جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ملتا"۔     رجوع کریں:  جُھوٹَن ( ١٩٤٣ء، بن باسی دیوی، ٥١ ) ١ - واقع یا حقیقت کے خلاف بات یا بیان، غلط بیانی، دروغ گوئی۔ "حضرت یعقوب علیہ السلام پر بیٹوں کا جھوٹھ ظاہر ہو گیا"۔      سچ کہتے ہو اغیار سے ملتے نہیں اب تم وہ جھوٹ بھی اچھا ہے جو ہو مصلحت آمیز ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ٣٢٤:١ ) ٢ - عدم واقفیت، حقیقت و سچائی کی ضد۔ "کہتے ہیں جھوٹ اور تیل کبھی تہہ میں نہیں بیٹھتے"۔      ( ١٩٦٧ء نقش، کراچی، ١٢٧ )

اشتقاق

سنکرت کے لفظ 'اچھشٹن' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں 'جھوٹ' رائج ہوا۔ اور سب سے پہلے "شرحِ تمہیداتِ ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غلط۔ "یہ بات صریحاً جھوٹ ہے"۔     "ایک بات سچ ہے اور دوسری جھوٹ، صفا جھوٹ"۔      ( ١٨٤٨ء تاریخ ممالک چین، ٤٩ )( ١٩٦٣ء، اداس نسلیں، عبداللہ حسین، ٤٦٧ ) ٣ - پس خوردہ، کھا کر چھوڑا ہوا۔      "ان کے ہاں عورتوں کو جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ملتا"۔     رجوع کریں:  جُھوٹَن ( ١٩٤٣ء، بن باسی دیوی، ٥١ ) ١ - واقع یا حقیقت کے خلاف بات یا بیان، غلط بیانی، دروغ گوئی۔ "حضرت یعقوب علیہ السلام پر بیٹوں کا جھوٹھ ظاہر ہو گیا"۔      سچ کہتے ہو اغیار سے ملتے نہیں اب تم وہ جھوٹ بھی اچھا ہے جو ہو مصلحت آمیز ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ٣٢٤:١ ) ٢ - عدم واقفیت، حقیقت و سچائی کی ضد۔ "کہتے ہیں جھوٹ اور تیل کبھی تہہ میں نہیں بیٹھتے"۔      ( ١٩٦٧ء نقش، کراچی، ١٢٧ )