جھوکنا
معنی
١ - کوڑا کرکٹ یا پھونس وغیرہ تنور یا بھاڑ میں بطور ایندھن ڈالنا، تنور یا بھاڑ گرم کرنا (نور اللغات) ٢ - خرچ کرنا، برباد کرنا، صرف کرنا۔ (نور اللغات؛ جامع اللغات) ٣ - ڈالنا، پھینکنا۔ جو بساط اپنی میں تھا ہوش و خرد جھوکا جھولی میں تری لا لالیاں ( ١٨١٨ء، دیوان اظفری، ٢٠ ) ٤ - لگانا، کھپانا (کسی بات پر جبراً) آمادہ کرنا۔ "جس بات سے روکنا یا جس کام پر جھوکنا منظور ہو اس میں پوری پوری اطاعت سننے والوں سے لے سکیں۔" ( ١٨٨٠ء، آب حیات ٦٢ ) ٥ - بے پروائی سے (بیٹی کو) کسی کے پلے باندھ دینا، بری جگہ شادی کر دینا۔ "انہوں نے بری جگہ بیٹی کو جھوک دیا۔" ( ١٩٢٦ء، نور اللغات، ٢، ٤٧٤ ) ٧ - تولنا۔ اندیشہ بے شمار یک ٹھوک میزان نبولی میں لا جھوک ( ١٨٣١ء، من موہن، ٣٢ ب )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'کشیپ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'جھوک' بنا اور اردو قاعدہ کے تحت 'نا' بطور علامت مصدر لگانے سے 'جھوکنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل مستعمل ہے۔ ١٨١٨ء میں "دیوان اظفری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٤ - لگانا، کھپانا (کسی بات پر جبراً) آمادہ کرنا۔ "جس بات سے روکنا یا جس کام پر جھوکنا منظور ہو اس میں پوری پوری اطاعت سننے والوں سے لے سکیں۔" ( ١٨٨٠ء، آب حیات ٦٢ ) ٥ - بے پروائی سے (بیٹی کو) کسی کے پلے باندھ دینا، بری جگہ شادی کر دینا۔ "انہوں نے بری جگہ بیٹی کو جھوک دیا۔" ( ١٩٢٦ء، نور اللغات، ٢، ٤٧٤ )