جھٹکانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - کسی چیز کو جھاڑ کر علیحدہ کرنا یا دور کرنا، جھٹکنا۔  وہ جھٹکائے بال آئی پھر سامنے چلو میرے ہاتھو جگر تھامنے      ( ١٩١٠ء، قاسم و زہرہ،١ ) ٢ - جھٹکا دینا، دھکا دینا، دور کرنا۔ "چھوٹے سے پیروٹے کو ہر راہ چلتا جھٹکائے گا۔"      ( ١٩٤١ء، بگولے، ١٧٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'جھٹکنا' سے اردو قواعد کے مطابق تعدیہ بنایا گیا ہے اردو میں بطور فعل مستعمل ہے ١٩١٠ء میں "قاسم و زہرہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - جھٹکا دینا، دھکا دینا، دور کرنا۔ "چھوٹے سے پیروٹے کو ہر راہ چلتا جھٹکائے گا۔"      ( ١٩٤١ء، بگولے، ١٧٢ )