جھڑپ
معنی
١ - ہلکی سی لڑائی مقابلہ۔ اور سنو ایک حکایت نئی دال چپاتی میں جھڑپ ہو گئی ( ١٩١١ء، کلیات اسمعٰیل، ١٠٣ ) ٢ - جوش، تیزی، تندی۔ "کشتی آغاز ہوئی یہاں مارا اور یہاں پٹکا بڑی تڑپ اور جھڑپ سے خونخوار لڑنے لگا۔" ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٨٩٢:١ ) ٣ - کسی ایک چیز کی دوسری چیز پر زد، ضرب، مار۔ "پاؤں کی ایک خفیف سی جھڑپ بھی ان کی ہڈیاں پسلیاں چور کر دینے کے لیے کافی تھی۔" ( ١٩١٠ء، ادیب، اگست، ٥٨ ) ٤ - کسی جن پری یا بدروح وغیرہ کا اثر یا جملہ۔ آج پھر دل تڑپ میں آیا ہے کسی پری کی جھڑپ میں آیا ہے ( ١٧٦١ء، چمنستان شعرا (افتخار)، ٤٢ الف ) ٥ - تندی، تیزی، جوش، گرمی، غصہ۔ "بس دیکھی آپکی جھڑپ۔" ( ١٩٢٦ء، نوراللغات )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'جور+تون' سے ماخوذ 'جھڑپ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - جوش، تیزی، تندی۔ "کشتی آغاز ہوئی یہاں مارا اور یہاں پٹکا بڑی تڑپ اور جھڑپ سے خونخوار لڑنے لگا۔" ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٨٩٢:١ ) ٣ - کسی ایک چیز کی دوسری چیز پر زد، ضرب، مار۔ "پاؤں کی ایک خفیف سی جھڑپ بھی ان کی ہڈیاں پسلیاں چور کر دینے کے لیے کافی تھی۔" ( ١٩١٠ء، ادیب، اگست، ٥٨ ) ٥ - تندی، تیزی، جوش، گرمی، غصہ۔ "بس دیکھی آپکی جھڑپ۔" ( ١٩٢٦ء، نوراللغات )