جھگڑا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - معمولی تکرار، لڑائی، دنگا، فساد۔ "کھیت چرانے والوں. کی وجہ سے. جھگڑے. ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند، (ترجمہ)، ٣٤٩:١ ) ٢ - بحث، حجت، تکرار، اختلاف۔ "اس میں تو کچھ جھگڑا نہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، حقوق و الفرائض، ٢٣:١ ) ٣ - قصہ، قفیہ، الجھن۔ "جیتی جان کے ساتھ دکھ، بیماری مرنا جینا، اچھے برے بیس جھگڑے ہیں۔"      ( ١٩١٧ء، طوفان حیات،٣٨ ) ٤ - جنجال، کھڑاگ، بکھیڑا۔ "میٹھے چاول تو آساں ہیں ان میں گوشت کا جھگڑا نہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٤٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ 'جھگڑنا' کا حاصل مصدر 'جھگڑا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمال ملتا ہے۔

مثالیں

١ - معمولی تکرار، لڑائی، دنگا، فساد۔ "کھیت چرانے والوں. کی وجہ سے. جھگڑے. ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند، (ترجمہ)، ٣٤٩:١ ) ٢ - بحث، حجت، تکرار، اختلاف۔ "اس میں تو کچھ جھگڑا نہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، حقوق و الفرائض، ٢٣:١ ) ٣ - قصہ، قفیہ، الجھن۔ "جیتی جان کے ساتھ دکھ، بیماری مرنا جینا، اچھے برے بیس جھگڑے ہیں۔"      ( ١٩١٧ء، طوفان حیات،٣٨ ) ٤ - جنجال، کھڑاگ، بکھیڑا۔ "میٹھے چاول تو آساں ہیں ان میں گوشت کا جھگڑا نہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٤٣ )

اصل لفظ: جھگڑنا
جنس: مذکر