جہاد

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - شعائر اسلام اور مذہبی فرائض میں رکاوٹ ڈالنے پر اثبات دین اور اعلاء کلمۃ الحق کے لیے کفار اور منافقین کے خلاف لڑنا۔ جہاد فرض کفایہ ہے ہر مسلمان پر واجب نہیں۔      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٤٦:٢ ) ٢ - کسی جائز اور نیک مقصد کے لیے جدوجہد اور کوشش کرنا۔ "عیسائی مصنفین نے بالاتفاق جہاد سے اس کے اصلی معنی، جفاکشی، کوشش، زور اور محنت کے ساتھ کام کرنے کے لیے ہیں"۔      ( ١٩١٢ء، تحقیق الجہاد، ١٨٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب سے حاصل مصدر ہے اور ایک اسلامی اصطلاح ہے جو اسلام کے ساتھ ہی برصغیر میں آئی، خاور نامہ میں ١٦٥٩ء میں مستعمل ہے۔

مثالیں

٢ - کسی جائز اور نیک مقصد کے لیے جدوجہد اور کوشش کرنا۔ "عیسائی مصنفین نے بالاتفاق جہاد سے اس کے اصلی معنی، جفاکشی، کوشش، زور اور محنت کے ساتھ کام کرنے کے لیے ہیں"۔      ( ١٩١٢ء، تحقیق الجہاد، ١٨٩ )

اصل لفظ: جہد
جنس: مذکر