جہان
معنی
١ - دنیا، عالم نہیں ہے اور خوباں میں جہاں کے ترے ناز و تجمل کا تماشا آپ کی درگاہ کا اللہ رے فیض اس کا ہر حجرہ جہانِ فیض ہے ( ١٧٣٩ء، کلیات سراج، ١٥٠ )( ١٩١٩ء، در شہوار، بے خود، ٩٠ ) ٢ - دنیا کے لوگ۔ "جس وقت وہ سنے گا تو فیض لطف اس کا خود بخود تمام جہان کو پہنچ جائے گا"۔ ( ١٨٨٧ء، سمندانِ فارس، ١١:٢ )
اشتقاق
فارسی زبان میں مستعمل ہے۔ دنیا کے معنوں میں۔ اردو میں داخل ہو گیا اور اپنی اصلی حالت برقرار رکھی سب سے پہلے "قلی قطب شاہ" کے کلیات میں ١٦١١ء کو مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - دنیا کے لوگ۔ "جس وقت وہ سنے گا تو فیض لطف اس کا خود بخود تمام جہان کو پہنچ جائے گا"۔ ( ١٨٨٧ء، سمندانِ فارس، ١١:٢ )