جیسا

قسم کلام: حرف تشبیہ

معنی

١ - جو کچھ، جس طرح، جس قسم کا۔  جو کوئی جیسا کرے ویسا ہی ملتا ہے اوسے دل نے مجھ کو دکھ دیا دل کو ستایا آپ نے      ( ١٨٦٦ء، ہزبر، دیوان، ١٠١ ) ٢ - گویا۔ "کوئی کشش ہر بار مجھے جیسے کھینچ کر واپس لے آئی ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، چنگیز، ٧٣ ) ٣ - (حرف تشبیہ کے طور پر جو مشہ بہ کے بعد آتا ہے) کے مانند)۔ "ان سے معزز ترین مسلمانوں جیسا برتاؤ کیا۔"      ( ١٩١٨ء، مسئلہ شرقیہ، ٣ ) ٤ - جب، جوں ہی۔ "جیسے ہی کسی کو اپنی لمبی چوڑیخ تعظیم کرتے دیکھا تھا اس سے بگڑ کر کہہ دیا ہوتا کہ کیا مجھ کو بناتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، روپائے صادقہ، ١٧٩ )

اشتقاق

پراکرت کے اصل لفظ 'جئیس او' سے ماخوذ 'جیسا' اردو میں بطور حرف استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٧٢ء کو شاہ میر کی "انتباہ الطالبین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - گویا۔ "کوئی کشش ہر بار مجھے جیسے کھینچ کر واپس لے آئی ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، چنگیز، ٧٣ ) ٣ - (حرف تشبیہ کے طور پر جو مشہ بہ کے بعد آتا ہے) کے مانند)۔ "ان سے معزز ترین مسلمانوں جیسا برتاؤ کیا۔"      ( ١٩١٨ء، مسئلہ شرقیہ، ٣ ) ٤ - جب، جوں ہی۔ "جیسے ہی کسی کو اپنی لمبی چوڑیخ تعظیم کرتے دیکھا تھا اس سے بگڑ کر کہہ دیا ہوتا کہ کیا مجھ کو بناتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، روپائے صادقہ، ١٧٩ )

اصل لفظ: جئیساو