حاجت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ضرورت، مراد، آرزو۔  اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے      ( ١٩٧٨ء، ہدایات ہندی (ق)، ضعیفی، ٧١ ) ٢ - پیشاب، پاخانہ (کی ضرورت) "قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا میں جاتے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٩٤:١ ) ٣ - (نفسیات) عضویے کے اندر کا وہ تناؤ جو خواہش اور اکساوا پیدا کرے۔ "حاجت عضویے کے اندر کا ایک تناؤ ہوتی ہے جو مخصوص تحریضات یا مقاصد کے بارے میں عضویے کے میدانوں کو منظم کرنے اور ان کے حصول کی طرف فعلیت کو اکسانے کا رجحان رکھتی ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ١٤١ )

اشتقاق

یہ عربی زبان کا لفظ ہے ح و ج اس کے حروف اصلی ہیں۔ اردو میں بطور اسم مونث اور اسم مذکر مستعمل ہے۔ (١٤٣١ء، خواجہ بندہ نواز "شکارنامہ" (شہباز، فروری، ٦٤ع) میں مستعمل ہے۔

مثالیں

٢ - پیشاب، پاخانہ (کی ضرورت) "قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا میں جاتے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٩٤:١ ) ٣ - (نفسیات) عضویے کے اندر کا وہ تناؤ جو خواہش اور اکساوا پیدا کرے۔ "حاجت عضویے کے اندر کا ایک تناؤ ہوتی ہے جو مخصوص تحریضات یا مقاصد کے بارے میں عضویے کے میدانوں کو منظم کرنے اور ان کے حصول کی طرف فعلیت کو اکسانے کا رجحان رکھتی ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ١٤١ )

اصل لفظ: حوج
جنس: مؤنث