حجامت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سر یا داڑھی اور مونچھوں کے بالوں کی صفائی اور درستی جو نائی سے کرائی جائے۔ مُو تراشی، اصلاح گیسو۔ "جمعہ کو ان کو غسل اور حجامت کرنے کی اجازت دیتا"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہدو سطٰی کی ایک جھلک، ٢٢٠ ) ٢ - سر، داڑھی اور مونچھوں کے قابل اصلاح بال۔ "دیکھا کہ پھٹے کپڑے پہنے ہے، حجامت بہت بڑھی ہوئی ہے"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، میرزا جان، ٣٤٢ ) ٣ - پچھنے لگانے کا کام۔ "اس نے رگ زنی، حجامت اور ارسال علق کا مطالعہ کیا"      ( ١٩٥٩ء، مقدمۂ تاریخ سائنس (ترجمہ)، ١، ٥٨٢:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں اسم 'حجام' کے ساتھ عربی قواعد کے مطابق 'ت' لگانے سے 'حجامت' بنا۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٧٩ء میں "قصۂ تمیم انصاری" کے قلمی نسخہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سر یا داڑھی اور مونچھوں کے بالوں کی صفائی اور درستی جو نائی سے کرائی جائے۔ مُو تراشی، اصلاح گیسو۔ "جمعہ کو ان کو غسل اور حجامت کرنے کی اجازت دیتا"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہدو سطٰی کی ایک جھلک، ٢٢٠ ) ٢ - سر، داڑھی اور مونچھوں کے قابل اصلاح بال۔ "دیکھا کہ پھٹے کپڑے پہنے ہے، حجامت بہت بڑھی ہوئی ہے"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، میرزا جان، ٣٤٢ ) ٣ - پچھنے لگانے کا کام۔ "اس نے رگ زنی، حجامت اور ارسال علق کا مطالعہ کیا"      ( ١٩٥٩ء، مقدمۂ تاریخ سائنس (ترجمہ)، ١، ٥٨٢:٢ )

اصل لفظ: حجم
جنس: مؤنث