حذف

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نکال دینا، دور کر دینا، الگ کر دینا، گرا دینا، ساقط کر دینا، لفظ سے کسی حرف کو یا عبارت سے کسی لفظ یا فقرے کو خارج کر دینا۔ "ایک گروپ میں ایک مقدار مثبت ہوا اور دوسرے میں منفی تو یہ مقدار حذف کر دی جاتی ہے"      ( ١٩٨٤ء، ماڈل کمپیوٹر بنائیے، ٤٣ ) ٢ - [ عروض ]  زحافات میں سے ایک زحاف، رکن کے آخر سے سبب خفیف گرا دینا، حذف۔ "بعد حجف و نقص و جدع و حذف و قطف. ایک نئے زحاف کی سوجھی"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ،٩، ١:٢١ ) ٣ - [ قواعد ]  خصوصاً کسی حرف علت کو گرادینا، مثلاً وَہَب سے یَہَب میں (واؤ حذف ہو گئی) یقوم سے قم میں (واؤ حذف ہو گئی)۔ "حروف حلت تین ہیں . پس ایسے کلمہ کی کسی صوفی نے ایسی تعلیل نہیں کی کہ تینوں بدل یا حذف ہوتے"      ( ١٨٨٧ء، نہرالمصائب، ٣٠٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے ١٨٣٨ء کو "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نکال دینا، دور کر دینا، الگ کر دینا، گرا دینا، ساقط کر دینا، لفظ سے کسی حرف کو یا عبارت سے کسی لفظ یا فقرے کو خارج کر دینا۔ "ایک گروپ میں ایک مقدار مثبت ہوا اور دوسرے میں منفی تو یہ مقدار حذف کر دی جاتی ہے"      ( ١٩٨٤ء، ماڈل کمپیوٹر بنائیے، ٤٣ ) ٢ - [ عروض ]  زحافات میں سے ایک زحاف، رکن کے آخر سے سبب خفیف گرا دینا، حذف۔ "بعد حجف و نقص و جدع و حذف و قطف. ایک نئے زحاف کی سوجھی"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ،٩، ١:٢١ ) ٣ - [ قواعد ]  خصوصاً کسی حرف علت کو گرادینا، مثلاً وَہَب سے یَہَب میں (واؤ حذف ہو گئی) یقوم سے قم میں (واؤ حذف ہو گئی)۔ "حروف حلت تین ہیں . پس ایسے کلمہ کی کسی صوفی نے ایسی تعلیل نہیں کی کہ تینوں بدل یا حذف ہوتے"      ( ١٨٨٧ء، نہرالمصائب، ٣٠٠ )

اصل لفظ: حذف
جنس: مذکر