حراست

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - محافظت، نگہبانی، نگرانی، پاسبانی "ان کو لازم ہے کہ ان کی حراست میں از حد کوشش کریں"۔      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ٣١٧ ) ٢ - گرفتاری، حوالات، نظربندی۔ "صاحب نے خفا ہو کر کہا اپنے آدمی کا نام بتاؤ نہیں تو تمھیں حراست میں رکھیں گے"۔      ( ١٩١٧ء، مراری دادا، ٣٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم کیفیت ہے۔ اصلی حروف (ح، ر،س) ہیں۔ اردو میں ١٨٥١ء کو "عجائب القصص (ترجمہ)" میں استعمال کیا گیا۔

مثالیں

١ - محافظت، نگہبانی، نگرانی، پاسبانی "ان کو لازم ہے کہ ان کی حراست میں از حد کوشش کریں"۔      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ٣١٧ ) ٢ - گرفتاری، حوالات، نظربندی۔ "صاحب نے خفا ہو کر کہا اپنے آدمی کا نام بتاؤ نہیں تو تمھیں حراست میں رکھیں گے"۔      ( ١٩١٧ء، مراری دادا، ٣٤ )

اصل لفظ: حرس
جنس: مؤنث