حرص

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - طمع، لالچ، ہوس۔  دماغوں میں جالے، زبانوں پہ تالے انہیں حرص کی علتِ مُزْمِنَہ ہے      ( ١٩٦٤ء، فارقلیط، ١٧٨ ) ٢ - نقالی، رِیس، تقلید۔ "ماپڑلوں کا دل مہذب اقوام کی حرص کرنے کو چاہتا ہے"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١١٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے ١٥٨٢ء میں "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نقالی، رِیس، تقلید۔ "ماپڑلوں کا دل مہذب اقوام کی حرص کرنے کو چاہتا ہے"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١١٥ )

اصل لفظ: حرص
جنس: مؤنث