حریف

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مقابل، مدمقابل، دشمن، رقیب۔ "ایک مرنجان مرنج قلمکار کو مشتعل کر کے جناب صدر کے لیے ایک اور حریف پیدا کر دیا۔"      ( ١٩٦٧ء، بزم آرائیاں، ١١٢ ) ٢ - ساتھی، دوست، رفیق۔  سراپا درد ہوں ابرار لیکن حریف شوق حرف غم نہیں ہے      ( ١٩٧٥ء، صدرنگ، ١٢٢ ) ٥ - کسی بوجھ، ذمہ داری وغیرہ کو اٹھانے کے لایق یا اس پر آمادہ، دعوے دار، سزاوار۔  کج فہمیوں سے خلق کی دیکھا کہ کیا ہوا منصور کو حریف نہ ہونا تھا راز کا      ( ١٩٢٨ء، آخری شمع، (عبدالعزیز)، ٥٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مقابل، مدمقابل، دشمن، رقیب۔ "ایک مرنجان مرنج قلمکار کو مشتعل کر کے جناب صدر کے لیے ایک اور حریف پیدا کر دیا۔"      ( ١٩٦٧ء، بزم آرائیاں، ١١٢ )

اصل لفظ: حرف
جنس: مذکر