حس
معنی
١ - محسوس کر لینے کی جبلت، احساس کی طاقت۔ وہ آئینہ رخسار دمِ باز پس آیا جب حس نہ رہا ہم کو تو دیدار دکھایا "ہماری ہر حس کے لیے مخصوص آخذات(Receptors) یا اعضائے حس ہیں . ان کا ٹھیک حالت میں ہونا ضروری ہے"۔ ( ١٨١٠ء، کلیات، میر، ١٤٩ )( ١٩٦٩ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ١٢٦ )
اشتقاق
عربی زبانی سے ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے، مذکر اور مؤنث دونوں طرح سے مستعمل ہے۔ اردو زبان میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء میں میر کے کلیات میں ملتا ہے۔
مثالیں
١ - محسوس کر لینے کی جبلت، احساس کی طاقت۔ وہ آئینہ رخسار دمِ باز پس آیا جب حس نہ رہا ہم کو تو دیدار دکھایا "ہماری ہر حس کے لیے مخصوص آخذات(Receptors) یا اعضائے حس ہیں . ان کا ٹھیک حالت میں ہونا ضروری ہے"۔ ( ١٨١٠ء، کلیات، میر، ١٤٩ )( ١٩٦٩ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ١٢٦ )