حسب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خاندانی سلسلہ، ماں کی طرف کا سلسلہ، خاندانی شرف، دینی بزرگی، جاہ و جلال کا شرف۔ "ان کے حسب میں ساری خوبیاں ہیں اور شب قبیلہ معافر ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، اندلس تاریخ و ادب، ٨٢ ) ٢ - عربوں کی ایک رسم جس میں مجمع عام میں کسی کو عامہ یا ٹوپی دی جاتی جس کا مطلب یہ ہوتا کہ جس کو یہ ٹوپی یا پگڑی دی گئی وہ دینے والے کی پناہ میں آ جاتا تھا، جب تک وہ اس دینے والے کے ساتھ رہتا تب تک اس کی عزت و آبرو کا وہ دینے والا ذمہ دار ہو جاتا تھا۔ "محتسب تقی الدین کے حق میں امیرین مکہ ریشہ اور عطیفہ کی جانب سے سرحسب ادا ہو چکی تھی۔"      ( ١٩٥١ء، سفرنامہ ابن بطوطہ، ١٦٣:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء میں میر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خاندانی سلسلہ، ماں کی طرف کا سلسلہ، خاندانی شرف، دینی بزرگی، جاہ و جلال کا شرف۔ "ان کے حسب میں ساری خوبیاں ہیں اور شب قبیلہ معافر ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، اندلس تاریخ و ادب، ٨٢ ) ٢ - عربوں کی ایک رسم جس میں مجمع عام میں کسی کو عامہ یا ٹوپی دی جاتی جس کا مطلب یہ ہوتا کہ جس کو یہ ٹوپی یا پگڑی دی گئی وہ دینے والے کی پناہ میں آ جاتا تھا، جب تک وہ اس دینے والے کے ساتھ رہتا تب تک اس کی عزت و آبرو کا وہ دینے والا ذمہ دار ہو جاتا تھا۔ "محتسب تقی الدین کے حق میں امیرین مکہ ریشہ اور عطیفہ کی جانب سے سرحسب ادا ہو چکی تھی۔"      ( ١٩٥١ء، سفرنامہ ابن بطوطہ، ١٦٣:١ )

اصل لفظ: حسب
جنس: مذکر