حقیر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مبتذل، ذلیل، خوار، اوچھا۔ "اس کی نظر میں میرا پیشہ حقیر ہے"      ( ١٩٨٠ء، دائروں میں دائرے، ٥٠ ) ٢ - ادنٰی، معمولی، غیر اہم، بے مایہ، بے قدرو قیمت۔ "تو ایک شکست خوردہ ملک کے حقیر کیڑے سے اپنے آپ کو کمینہ کہلوا رہا ہے"      ( ١٩٨٣ء، سفر مینا، ٩ ) ٣ - دبلا، لاغر، غیر پسندیدہ، برا۔ "حقیر صورت شخص کو جو بچپن کے خلاف اب نہایت کم رو واقع ہوا تھا . کچھ بھی وقعت نہیں قائم ہو سکتی تھی"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٣٨:٣ ) ٤ - کمۂ انکسار (جو بطور عجزو انکسار متکلم خود اپنے لیے بجائے الفاظ "میں" "میرے" "مجھ" کے استعمال کرتا ہے)۔ "اس کمترین بندۂ خدا، حقیر پُر تقصیر کو یہ سعادت نصیب ہوئی"      ( ١٩٥٤ء، گوندنی والا تکیہ، ٦٥ ) ٥ - بہت ہی کم، تھوڑی (مقدار یا تعداد)۔ "ہندوستان میں اتنی حقیر مقدار بھی گنتی کے چند ہی بچوں کو نصیب ہو سکتی ہے"      ( ١٩٤١ء، ہماری غذا، ٨٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٠٦ء کو "دائروں میں دائرے" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مبتذل، ذلیل، خوار، اوچھا۔ "اس کی نظر میں میرا پیشہ حقیر ہے"      ( ١٩٨٠ء، دائروں میں دائرے، ٥٠ ) ٢ - ادنٰی، معمولی، غیر اہم، بے مایہ، بے قدرو قیمت۔ "تو ایک شکست خوردہ ملک کے حقیر کیڑے سے اپنے آپ کو کمینہ کہلوا رہا ہے"      ( ١٩٨٣ء، سفر مینا، ٩ ) ٣ - دبلا، لاغر، غیر پسندیدہ، برا۔ "حقیر صورت شخص کو جو بچپن کے خلاف اب نہایت کم رو واقع ہوا تھا . کچھ بھی وقعت نہیں قائم ہو سکتی تھی"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ٣٨:٣ ) ٤ - کمۂ انکسار (جو بطور عجزو انکسار متکلم خود اپنے لیے بجائے الفاظ "میں" "میرے" "مجھ" کے استعمال کرتا ہے)۔ "اس کمترین بندۂ خدا، حقیر پُر تقصیر کو یہ سعادت نصیب ہوئی"      ( ١٩٥٤ء، گوندنی والا تکیہ، ٦٥ ) ٥ - بہت ہی کم، تھوڑی (مقدار یا تعداد)۔ "ہندوستان میں اتنی حقیر مقدار بھی گنتی کے چند ہی بچوں کو نصیب ہو سکتی ہے"      ( ١٩٤١ء، ہماری غذا، ٨٧ )

اصل لفظ: حقر
جنس: مذکر