حلاوت
معنی
١ - مٹھاس، شرینی۔ "کھانے پینے کی حلاوت، نہ پہننے کی کچھ گت" ( ١٩١١ء، قصۂ مہر افروز، ٨٣ ) ٢ - ذوق، مذاق۔ ذوق ایماں اور عبادت کی حلاوت ہو نصیب عاقبت لالخیر ہو اپنی خدا کے واسطے ( ١٩٦٦ء، صدرنگ، ٤٩ ) ٣ - کیف، لطف، سکھ، چین، آرام۔ "بسنت . جس میں جاڑے کی کپکپی ہوتی ہے اور گرمی کی حلاوت بھی" ( ١٩٨٢ء، دوسرا کنارا، ٥٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٠٠ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مٹھاس، شرینی۔ "کھانے پینے کی حلاوت، نہ پہننے کی کچھ گت" ( ١٩١١ء، قصۂ مہر افروز، ٨٣ ) ٣ - کیف، لطف، سکھ، چین، آرام۔ "بسنت . جس میں جاڑے کی کپکپی ہوتی ہے اور گرمی کی حلاوت بھی" ( ١٩٨٢ء، دوسرا کنارا، ٥٧ )