حلوا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کھانا جو گھی اور شکر سے بنتا ہے۔ ایک نرم اور مرغن شیرینی جو گھی، شکر، یا میدے یا بعض قسم کے پھل اور ترکاری وغیرہ سے بنائی جاتی ہے۔  حلوا کھلایا شیخ نے اور وعظ بھی کہا حلوا تو پیٹ میں ہے مگر دل میں کچھ نہیں      ( ١٩٢١ء، کلیات، اکبر، ١٦٠:٢ ) ٢ - تر چیز، نرم چیز(کھانے کی) "ستر برس ہوئے کہ دانت چوہے کی نذر کیے تب سے حلوے پر بسر ہے"۔      ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٢٨:١ ) ٦ - [ عامیانہ ]  بوسہ لب۔  خدا کا شکر دیا اس نے مجھ کو بوسہ لب کسے نصیب یہ حلوائے بادشاہ پسند      ( ١٩٠٧ء، کلیات، اکبر، ١٢٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے جوکہ اردو میں حاصل مصدر اور مزید اسم نکرہ کے طور پر رائج ہے۔ اردو میں ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - تر چیز، نرم چیز(کھانے کی) "ستر برس ہوئے کہ دانت چوہے کی نذر کیے تب سے حلوے پر بسر ہے"۔      ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٢٨:١ ) ٥ - آم کی ایک قسم کا نام، جا بجا۔ "ناند رکھے ہیں اور ان میں لبالب آم بھرے ہوئے ہیں، موتی چور، حلوہ، شاہ پسند . غرض کہاں تک گنواؤں آموں کی قسمیں"۔

جنس: مذکر