حنا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مہندی (لگانے کے لیے تیار شدہ)۔  ہوا ہے مائل آرائش اب تو وہ خود بیں گئی جو سامنے سے آرسی حنا آئی    ( ١٨٣٣ء، دیوان رند، ١٣٢:١ ) ٢ - مہندی کا پودا، پتیاں، پھول۔ "خوش بودار جڑی بوٹیوں کے ساتھ ساتھ ان پودوں کی کاشت بھی خاصے پیمانے پر ہوتی تھی جس سے کپڑے بنتے ہیں، یعنی ایک طرف زعفران. اور حنا کی، اور دوسری طرف سن اور کپاس کی"    ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٣٢:٣ ) ٣ - مہندی کا سرخ رنگ (لگنے کے بعد)۔  یہ تیرے ہاتھ کہ ہیں میرے لہو سے رنگین اڑ کے تالالہ و گل ان کی حنا جاتی ہے      ( ١٦٧٥ء، پردہ سخن، ٨٥ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٨٣٢ء، کو "دیوان رند" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - مہندی کا پودا، پتیاں، پھول۔ "خوش بودار جڑی بوٹیوں کے ساتھ ساتھ ان پودوں کی کاشت بھی خاصے پیمانے پر ہوتی تھی جس سے کپڑے بنتے ہیں، یعنی ایک طرف زعفران. اور حنا کی، اور دوسری طرف سن اور کپاس کی"    ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٣٢:٣ )

اصل لفظ: حنا
جنس: مؤنث