حوالہ
معنی
١ - (نام کتاب یا صفحات وغیرہ سے متعلق) وہ یادداشت یا نوٹ جس کی مدد سے تفصیلات یا اصل موضوع کی طرف رجوع کیا جا سکے۔ "ان کے لیے وہ ایسے ادبی ماخذ کا مرہون منت ہے جن کے وہ حوالے نہیں دیتا۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٦١:٣ ) ٢ - کسی موقع و محل وغیرہ کی نشان دہی، اشارہ (کسی واقعہ وغیرہ کی طرف)۔ "وہ ٩٠ فیصدی شادیاں جن کا حوالہ شروع مضمون میں دیا گیا رضامندی کی ہیں یا ناراضمندی کی۔" ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، نالۂ زار، ٤٢ ) ٤ - نام، پتا، نشان۔ "نجاشی بادشاہ جوکہ خود عیسائی تھا، کہنے لگا، مسلمانوں، تمھارا رسول خدا کون ہے جس کا تم حوالہ دے رہے ہو، وہ کون شخص ہے جس نے تم کو یہ تعلیم دی ہے۔" ( ١٩٢٤ء، محمدۖ کی سرکار میں ایک سکھ کا نذرانہ، ٤٦ ) ٥ - مثال، ذکر(بطور مثال)۔ دیتے ہیں سورج کے حوالے ظلمت شب کی گود کے پالے ( ١٩٧٩ء، زخم ہنر، ٨٨ ) ٧ - لگان۔ "لینڈ ریونیو کو حوالہ کہا جاتا ہے۔" ( ١٩٤٠ء، جائزہ زبان اردو، ٢٤٩:١ ) ٩ - [ فقہ ] اگر کوئی شخص اپنا قرض کسی تحریر یا ضمانت کے ذریعے سے دوسرے شخص کو منتقل کر دے تو اس تحریر یا ضمانت کو حوالہ کہا جاتا ہے۔ (اسلامی انسائیکلوپیڈیا، 823)
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٣ء کو"بست سالہ عہد حکومت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (نام کتاب یا صفحات وغیرہ سے متعلق) وہ یادداشت یا نوٹ جس کی مدد سے تفصیلات یا اصل موضوع کی طرف رجوع کیا جا سکے۔ "ان کے لیے وہ ایسے ادبی ماخذ کا مرہون منت ہے جن کے وہ حوالے نہیں دیتا۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٦١:٣ ) ٢ - کسی موقع و محل وغیرہ کی نشان دہی، اشارہ (کسی واقعہ وغیرہ کی طرف)۔ "وہ ٩٠ فیصدی شادیاں جن کا حوالہ شروع مضمون میں دیا گیا رضامندی کی ہیں یا ناراضمندی کی۔" ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، نالۂ زار، ٤٢ ) ٤ - نام، پتا، نشان۔ "نجاشی بادشاہ جوکہ خود عیسائی تھا، کہنے لگا، مسلمانوں، تمھارا رسول خدا کون ہے جس کا تم حوالہ دے رہے ہو، وہ کون شخص ہے جس نے تم کو یہ تعلیم دی ہے۔" ( ١٩٢٤ء، محمدۖ کی سرکار میں ایک سکھ کا نذرانہ، ٤٦ ) ٧ - لگان۔ "لینڈ ریونیو کو حوالہ کہا جاتا ہے۔" ( ١٩٤٠ء، جائزہ زبان اردو، ٢٤٩:١ )