حوصلہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ارمان، آرزو، ارادہ۔  تھا قول "ذاکیہ" گلچیں کا تیرے بلبل سے خدا کی شان کہ تو اور حوصلہ گل کا      ( ١٩٤٠ء، بیخود موہانی، کلیات، ١٥٦ ) ٢ - مقدور، استطاعت، ظرف، ہمت۔  کوئے احساس ترے حوصلے تسلیم مگر صحن زنداں ہی لگے، نقش قدم تک اس کا      ( ١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ٣٤ ) ٣ - طاقت، جرات۔  جبیں سائی کو ہم کس حوصلے پر آپ تک آتے نہ بل زلفوں میں کم پایا نہ کچھ ابرو سے خم نکلا      ( ١٨٦٥ء، نسیم دہلوی، دیوان، ٧٤ ) ٤ - پوٹا، پرند کا معدہ۔ "حوصلہ اس کا نزول آپ کو روکتا ہے ابتدا میں۔"      ( ١٩٠٧ء، حیوۃ الحیوان، ٥:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں رباعی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ارمان، آرزو، ارادہ۔  تھا قول "ذاکیہ" گلچیں کا تیرے بلبل سے خدا کی شان کہ تو اور حوصلہ گل کا      ( ١٩٤٠ء، بیخود موہانی، کلیات، ١٥٦ ) ٤ - پوٹا، پرند کا معدہ۔ "حوصلہ اس کا نزول آپ کو روکتا ہے ابتدا میں۔"      ( ١٩٠٧ء، حیوۃ الحیوان، ٥:٢ )

اصل لفظ: حوصل
جنس: مذکر