حویلی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - شان دار مکان، بڑا اور پکا مکان (بیشتر جس کے گرد چار دیواری بھی ہوتی ہے)، محل، محلسرا۔ "حویلی کے دالان میں سو کے قریب چار پائیاں بچھائی جا سکتی تھیں۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٤٠ ) ٢ - بیوی "باقی کل نقد روپیہ کو جو اس وقت میرے پاس موجود تھے حسب سہام شرعی اپنی دونوں حویلیوں پر تقسیم کر کے ہر ایک کے حوالہ کر دیے۔"      ( ١٨٨٠ء، تواریخ عجیب، ٢٠٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں اسم 'حوالی' کا امالہ 'حویلی' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتی ہے۔ ١٦٢٥ء کو "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شان دار مکان، بڑا اور پکا مکان (بیشتر جس کے گرد چار دیواری بھی ہوتی ہے)، محل، محلسرا۔ "حویلی کے دالان میں سو کے قریب چار پائیاں بچھائی جا سکتی تھیں۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٤٠ ) ٢ - بیوی "باقی کل نقد روپیہ کو جو اس وقت میرے پاس موجود تھے حسب سہام شرعی اپنی دونوں حویلیوں پر تقسیم کر کے ہر ایک کے حوالہ کر دیے۔"      ( ١٨٨٠ء، تواریخ عجیب، ٢٠٦ )

جنس: مؤنث