حیثیت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - حالت، وضع، شکل، طرز۔ "میرا مقصد تھا کہ صرف دو خطوط کتابی حیثیت میں شایع کیے جائیں کہ جن میں کہ ادب کی رنگینی ہو"      ( ١٩١٠ء، مکاتیب امیر مینائی، (دیباچہ)، ١٠ ) ٢ - صلاحیت، استعداد، لیاقت، خصوصیت۔ "سرسید کی ذات میں . مختلف الجنس حیثتیں جمع تھیں"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٩ ) ٣ - مالی حالت، بساط، مقدرت، آمدنی۔ "طبیب کو لازم ہے کہ وہ نذرانہ، مریض کی حیثیت دیکھ کر قبول کرے، اپنی حیثیت دیکھ کر نہیں"      ( ١٩٧٩ء، کیسے کیسے لوگ، ٦٧ ) ٤ - عزت، شان، مرتبہ، درجہ۔ "فراق کے کلام سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حسرت کی عبوری حیثیت سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں"      ( ١٩٥٣ء، تحقیق و تنقید، ٧٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٠ء کو "فسانۂ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حالت، وضع، شکل، طرز۔ "میرا مقصد تھا کہ صرف دو خطوط کتابی حیثیت میں شایع کیے جائیں کہ جن میں کہ ادب کی رنگینی ہو"      ( ١٩١٠ء، مکاتیب امیر مینائی، (دیباچہ)، ١٠ ) ٢ - صلاحیت، استعداد، لیاقت، خصوصیت۔ "سرسید کی ذات میں . مختلف الجنس حیثتیں جمع تھیں"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٩ ) ٣ - مالی حالت، بساط، مقدرت، آمدنی۔ "طبیب کو لازم ہے کہ وہ نذرانہ، مریض کی حیثیت دیکھ کر قبول کرے، اپنی حیثیت دیکھ کر نہیں"      ( ١٩٧٩ء، کیسے کیسے لوگ، ٦٧ ) ٤ - عزت، شان، مرتبہ، درجہ۔ "فراق کے کلام سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حسرت کی عبوری حیثیت سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں"      ( ١٩٥٣ء، تحقیق و تنقید، ٧٥ )

اصل لفظ: حیث
جنس: مؤنث