حیدر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - شیر۔  خبرداری کی خاطر ہے وہ حیدر بشر کو ہے وہاں جانا بہت ڈر      ( ١٥٩١ء، گل و صنوبر (ق)، ٤٥ ) ٢ - حضرت علی کا لقب۔  مولا حرم ہے عرش معلٰی مقام ہے حیدر مرا لقب ہے علی میرا نام ہے      ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض، شمیم، ١٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے ١٥٩١ء کو "گل و صنوبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: حیر
جنس: مذکر