حیران

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بھوچکا، ہکا بکا، متحیر، متعجب، دنگ۔ "تعمیر و تخریب اور عقل و جہالت کے اس تفاد پر ہم جتنا بھی حیران ہوں کم ہے"      ( ١٩٨٤ء، گردراہ، ٣٠١ ) ٢ - پریشان، سرگرداں۔ "اماں جان تم کسی بات سے حیران نہ رہو میں بھی آپکی اور یہ تنخواہ بھی آپکی"      ( ١٩١١ء، قصۂ میر افروز، ٧١ ) ٤ - عاشق۔  اوسکا حیراں ہوں میں جو کہتا ہے دیکھ لے منہ نہ آرسی میرا      ( ١٨٦٧ء، عرش (میر کلو)، دیوان، ٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے "دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بھوچکا، ہکا بکا، متحیر، متعجب، دنگ۔ "تعمیر و تخریب اور عقل و جہالت کے اس تفاد پر ہم جتنا بھی حیران ہوں کم ہے"      ( ١٩٨٤ء، گردراہ، ٣٠١ ) ٢ - پریشان، سرگرداں۔ "اماں جان تم کسی بات سے حیران نہ رہو میں بھی آپکی اور یہ تنخواہ بھی آپکی"      ( ١٩١١ء، قصۂ میر افروز، ٧١ )

اصل لفظ: حیر