حیف

قسم کلام: حرف فجائیہ

معنی

١ - افسوس، حسرت، تعجب یا نفرت کے اظہار کے لیے۔  وہ مرا عشق گل افشاں رشتہ برپا حیف حیف وہ ترا حسن جواں سردرگربیاں ہائے ہائے      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ١٨٩ ) ١ - افسوس، تاسف۔  ہزار حیف کہ تقدیس بطن مادر میں ہلاک ہو گیا طفل نظاما نامولود      ( ١٩٨٣ء، بےنام، ٧٦ ) ٢ - ظلم، ستم، ناانصافی۔ "ان لوگوں نے بااینہمہ اصلاح و تہذیب عورتوں کے حق میں کیسے جور اور حیف کو جانپر رکھا ہے"      ( ١٨٩٥ء، چراغ علی، تہذیب الاخلاق، ٢٨:٣ ) ١ - فضول، بیکار، گھٹیا، پست، بے معنی، لاحاصل۔ "اس کو ایک حیف اور رکیک وسبک تک بندی کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا۔"      ( ١٨٩٣ء، مقدمۂ شعرو شاعری، ٦٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اور بطور حرف اور گا ہے اسم صفت بھی مستعمل ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور حرف، اسم اور گا ہے اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٧٢ء، کو شاہی کے "کلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ظلم، ستم، ناانصافی۔ "ان لوگوں نے بااینہمہ اصلاح و تہذیب عورتوں کے حق میں کیسے جور اور حیف کو جانپر رکھا ہے"      ( ١٨٩٥ء، چراغ علی، تہذیب الاخلاق، ٢٨:٣ ) ١ - فضول، بیکار، گھٹیا، پست، بے معنی، لاحاصل۔ "اس کو ایک حیف اور رکیک وسبک تک بندی کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا۔"      ( ١٨٩٣ء، مقدمۂ شعرو شاعری، ٦٥ )

اصل لفظ: حیف
جنس: مذکر