حیلہ
معنی
١ - بہانہ، فریب، مکر، چال، تدبیر۔ "انہوں نے پاکستان کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ اسے ایک فرقہ وارنہ فاشسٹ جاعت کا ایک حیلہ سامراج سمجھتے ہیں۔" ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ٢١٥ ) ٢ - روزی کمانے کا ذریعہ، وسیلہ، پیشہ، روزگار، نوکری۔ "آئندہ زندگی بسر کرنے کے لیے معقول حیلہ معاش تجویز کرنا چاہیے۔" ( ١٨٩٠ء، مکتوبات حالی، ١٢٤:٢ ) ٣ - [ فقہ ] جب شرعی حدود میں کسی مقصد کا حصول ممکن نہ ہوتا ہو تو اس کی ایسی تدبیر یا حیلہ نکالا جانا جس کے ذریعے احکام عمل اور اس کے لازمی نتائج سے بچ نکلنے کی صورت نکل آئے، یعنی خلاف ورزی بھی نظر نہ آئے اور تکلیف شرعی سے بچنے کا پہلو بھی نکل آئے۔ "کسی نے فتویٰ دیا تھا کہ محرم اگر جہاز میں سوار کروا دے تو شرعی حیلہ پورا ہو جاتا ہے۔" ( ١٩٧٦ء، اردو نامہ، کراچی، جون، ١٣٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بہانہ، فریب، مکر، چال، تدبیر۔ "انہوں نے پاکستان کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ اسے ایک فرقہ وارنہ فاشسٹ جاعت کا ایک حیلہ سامراج سمجھتے ہیں۔" ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ٢١٥ ) ٢ - روزی کمانے کا ذریعہ، وسیلہ، پیشہ، روزگار، نوکری۔ "آئندہ زندگی بسر کرنے کے لیے معقول حیلہ معاش تجویز کرنا چاہیے۔" ( ١٨٩٠ء، مکتوبات حالی، ١٢٤:٢ ) ٣ - [ فقہ ] جب شرعی حدود میں کسی مقصد کا حصول ممکن نہ ہوتا ہو تو اس کی ایسی تدبیر یا حیلہ نکالا جانا جس کے ذریعے احکام عمل اور اس کے لازمی نتائج سے بچ نکلنے کی صورت نکل آئے، یعنی خلاف ورزی بھی نظر نہ آئے اور تکلیف شرعی سے بچنے کا پہلو بھی نکل آئے۔ "کسی نے فتویٰ دیا تھا کہ محرم اگر جہاز میں سوار کروا دے تو شرعی حیلہ پورا ہو جاتا ہے۔" ( ١٩٧٦ء، اردو نامہ، کراچی، جون، ١٣٢ )