خاتم

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ختم کرنے والا، انجام کو پہنچانے والا؛ آخری۔ "الہ دین کا نام تھا اور چراغ تخلص . نگڑ دادا ان کے اپنے فن کے خاتم تھے"      ( ١٩٧٨ء، ابن انشاء خمار گندم، ١٣ ) ٢ - پورا کرنے والا؛ بند کرنے والا؛ مندمل کرنے والا۔ "خاتم پورا کرنے والی، حشکی کی وجہ سے زخم کو خشک کر کے کھرنڈ باندھ دیتی ہے"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ١١٠:١ ) ٣ - تمام کو پہنچانے والا، تکملہ کرنے والا؛ منقطع کرنے والا۔ "اس سے اس مشہور قانونی مقولہ کی تشریح ہوتی ہے کہ عورت خاندان کی خاتم ہے"      ( ١٩٣٣ء، قدیم قانون، ١١٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٥ء، کو "جواہر اسرار اللہ( قلمی نسخہ)، میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ختم کرنے والا، انجام کو پہنچانے والا؛ آخری۔ "الہ دین کا نام تھا اور چراغ تخلص . نگڑ دادا ان کے اپنے فن کے خاتم تھے"      ( ١٩٧٨ء، ابن انشاء خمار گندم، ١٣ ) ٢ - پورا کرنے والا؛ بند کرنے والا؛ مندمل کرنے والا۔ "خاتم پورا کرنے والی، حشکی کی وجہ سے زخم کو خشک کر کے کھرنڈ باندھ دیتی ہے"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ١١٠:١ ) ٣ - تمام کو پہنچانے والا، تکملہ کرنے والا؛ منقطع کرنے والا۔ "اس سے اس مشہور قانونی مقولہ کی تشریح ہوتی ہے کہ عورت خاندان کی خاتم ہے"      ( ١٩٣٣ء، قدیم قانون، ١١٤ )

اصل لفظ: ختم