خارزار
معنی
١ - وہ جگہ جہاں کثرت سے کانٹے اُگے ہوئے ہوں، کانٹوں کا جنگل۔ کیا بتاؤں ترے مجنوں کا پتہ لوگوں کو خارزاروں میں کہیں بے سر و ساماں ہو گا ( ١٩٧٥ء، صدرنگ، ٦٦ ) ٢ - [ مجازا ] دنیا۔ "اس خارزار کا کوئی چپہ ایسا نہیں جہاں اطمینان کے آثار موجود ہوں۔" ( ١٩١٨ء، انگوٹھی کا راز، ١٨ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'خار' کے ساتھ فارسی ہی سے ماخوذ 'زار' بطور لاحقۂ ظرف لگانے سے مرکب 'خارزار' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ مجازا ] دنیا۔ "اس خارزار کا کوئی چپہ ایسا نہیں جہاں اطمینان کے آثار موجود ہوں۔" ( ١٩١٨ء، انگوٹھی کا راز، ١٨ )