خاشاک
معنی
١ - کوڑا کرکٹ، گھاس پھوس۔ اے شعلۂ ہمت یہ جو خاشاک پڑا ہے کچھ کام ضرور اس کے مقدر میں لکھا ہے ( ١٩٨١ء، حرف دل رس، ١٠٧ ) ٢ - تنکے۔ ناکام رہے وہ جن کو تھی لاگ خاشاک سے دب سکی نہ یہ آگ ( ١٩١٤ء، شبلی، کلیات، ١٧ ) ٣ - [ مجازا ] ادنٰی، ارذل، ناپسندیدہ وجود یا شے۔ "مملکت فتنہ و فساد کی خاشاک سے پاک ہوئی۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٢٤٥:٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ ہے اردو میں اپنی اصل حالت اور معنی کے ساتھ بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - [ مجازا ] ادنٰی، ارذل، ناپسندیدہ وجود یا شے۔ "مملکت فتنہ و فساد کی خاشاک سے پاک ہوئی۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٢٤٥:٤ )