خاص

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - غیر معمولی، خصوصی، مخصوص  اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمیۖ ٢ - پیارا، مقبول، منظور نظر، مقرب  وہ بھی خاصِ خدا ہے مثل بلال ہے جو دل سے غلام احمد کا      ( ١٨٧٢ء، محامد خاتم النبیین، ٣٥ ) ٣ - عمدہ، منتخب، بہتر۔ "مری جو کشمیر کی سرحد پر راولپنڈی کے شمال میں ہے یہ ان مقامات سے خاص ہیں جو صحت بخش خیال کیے . جاتے ہیں"۔      ( ١٨٨٣ء، جغرافیہ گیتی، ١٨:٢ ) ٤ - الگ، جدا، مختلف، منفرد۔ "اردو کالہجہ تمام زبانوں سے خاص ہے"      ( ١٩٢٨ء، باتوں کی باتیں، ٤١ ) ٥ - عوام الناس کا نقیض، خاص لوگ، شریف آدمی۔  خلط اجلاف سے رکھتے ہو تو بس چپکے رہو خاص کیا تم کو کہیں گے یہ خبر عام نہ ہو      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٧٩ ) ٦ - صرف، فقط۔ "یہ سب باتیں خاص لکھن میں پائی جاتی ہیں"۔      ( ١٩٣٠ء، بیگموں کا دربار، ٢٤ ) ٧ - اصل۔ "نہ صرف قنوج بلکہ بھارت خاص (تا بنارس) پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا"۔      ( ١٩٥٣ء، تاریخِ مسلمانان پاکستان و بھارت، ١٥٥:١ ) ٩ - ٹھیک، ٹھیٹ۔  کام بہت خاص کیا ہوں چلتی عمارت راس کیا ہوں      ( ١٦٣٥ء، سب رس ) ١٠ - مصاحب، درباری۔ "ایک دن قاسم سفید جوڑا پہن سوار ہو دربار بادشاہی کی طرف آتا تھا رستے میں ایک خاص نے اس کی دستار پر ایک چھیٹا زعفرانی رنگ کا داغ دیکھا"۔      ( ١٨٢٤ء، سید عشرت، ٦٩ ) ١ - ایک وضع کا ایک طرف سے چکنا سوتی کپڑا جو ململ سے موٹا اور لٹھے سے پتلا ہوتا ہے۔  ہم پہنیں لال جوڑا، تم پہنو خاص بنڈی خندی ہو جوتمھاری چھاتی کرے نہ ٹھنڈی      ( ١٨٣٠ء، کلیات، نظیر، ١٥١:٢ ) ١ - بالخصوص، خاص طور پر، خصوصیت سے، خصوصی "بعض کھانے پد ماوت خاص اپنے ہاتھ سے بھی اپنے مہمان کے لیے تیار کرتی ہے"۔      ( ١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی، ١٦ )

اشتقاق

ثلاثی مجرد و مضاعف کے باب سے اسم فاعل ہے اردو میں بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں استعمال کیا گیا۔

مثالیں

٣ - عمدہ، منتخب، بہتر۔ "مری جو کشمیر کی سرحد پر راولپنڈی کے شمال میں ہے یہ ان مقامات سے خاص ہیں جو صحت بخش خیال کیے . جاتے ہیں"۔      ( ١٨٨٣ء، جغرافیہ گیتی، ١٨:٢ ) ٤ - الگ، جدا، مختلف، منفرد۔ "اردو کالہجہ تمام زبانوں سے خاص ہے"      ( ١٩٢٨ء، باتوں کی باتیں، ٤١ ) ٦ - صرف، فقط۔ "یہ سب باتیں خاص لکھن میں پائی جاتی ہیں"۔      ( ١٩٣٠ء، بیگموں کا دربار، ٢٤ ) ٧ - اصل۔ "نہ صرف قنوج بلکہ بھارت خاص (تا بنارس) پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا"۔      ( ١٩٥٣ء، تاریخِ مسلمانان پاکستان و بھارت، ١٥٥:١ ) ١٠ - مصاحب، درباری۔ "ایک دن قاسم سفید جوڑا پہن سوار ہو دربار بادشاہی کی طرف آتا تھا رستے میں ایک خاص نے اس کی دستار پر ایک چھیٹا زعفرانی رنگ کا داغ دیکھا"۔      ( ١٨٢٤ء، سید عشرت، ٦٩ ) ١ - بالخصوص، خاص طور پر، خصوصیت سے، خصوصی "بعض کھانے پد ماوت خاص اپنے ہاتھ سے بھی اپنے مہمان کے لیے تیار کرتی ہے"۔      ( ١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی، ١٦ )

اصل لفظ: خصص