خاصیت
معنی
١ - خصوصی، تاثیر، خاص اثر، خلقی وصف، فطری افتاد۔ "جب ان (ہوا) کا رخ قطبین سے استوا کی جانب ہوتا ہے تو ان کی خاصیت گرم یا سرد ہو جاتی ہے۔" ( ١٩٦٧ء، عالمی تجارتی جغرافیہ، ٥١ ) ٢ - وصف، صفت، خصوصیت۔ "مجھے یقین ہے کہ خود غرضی، امریکی خاصیت ہے جو کہ خود کو اور واضح کرتی ہے۔" ( ١٩٨٤ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ١٥٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'خاصی' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقہ نسبت ملانے سے 'خاصیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٨٢ء میں "کلمہ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خصوصی، تاثیر، خاص اثر، خلقی وصف، فطری افتاد۔ "جب ان (ہوا) کا رخ قطبین سے استوا کی جانب ہوتا ہے تو ان کی خاصیت گرم یا سرد ہو جاتی ہے۔" ( ١٩٦٧ء، عالمی تجارتی جغرافیہ، ٥١ ) ٢ - وصف، صفت، خصوصیت۔ "مجھے یقین ہے کہ خود غرضی، امریکی خاصیت ہے جو کہ خود کو اور واضح کرتی ہے۔" ( ١٩٨٤ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ١٥٨ )