خاطب

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خطاب کرنے والا، مقرر، واعظ، خطبہ پڑھنے والا۔ "طلب اور استعطاف قولاّ یا تعلّا خاطب کی طرف پایا جائے۔"      ( ١٩٦٤ء، کمالین، ٧٢:٣ ) ١ - شادی کی درخواست کرنے والا، داماد، شوہر۔  بھی سب اصحاب کوں اپنے شہنشاہ کیا مکتوب سے خاطب کے آگاہ      ( ١٧٩١ء، ہشت بہشت، ١٣٩:٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم اور صفت بھی مستعمل ہے ١٧٩١ء میں "ہشت بہشت"میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خطاب کرنے والا، مقرر، واعظ، خطبہ پڑھنے والا۔ "طلب اور استعطاف قولاّ یا تعلّا خاطب کی طرف پایا جائے۔"      ( ١٩٦٤ء، کمالین، ٧٢:٣ )

اصل لفظ: خطب