خافض

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - (ظالموں پر سختی کرنے کے سبب) خدائے تعالٰی کا ایک صفاتی نام۔ "خدا کے خافض و رافع ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے فرماں برداروں کو قرب کی دولت عطا فرما کر انہیں بلند کرتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣٤:١ ) ٢ - [ طب ]  وہ ادویات جو اپنی تاثیر سے حالت سکون پیدا کرتی ہیں یا زور حسیت کو کم کرتی ہیں، عضلات کو ڈھیلا کرتی ہیں، دباؤ کی کیفیت۔ "یہ (پوٹاسیم) قلب کے آلٹے ایک طاقتور حافض ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، علم الادویہ (ترجمہ)، ١٤٢:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٩٠٦ء میں "الحقوق و الفرائض"میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (ظالموں پر سختی کرنے کے سبب) خدائے تعالٰی کا ایک صفاتی نام۔ "خدا کے خافض و رافع ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے فرماں برداروں کو قرب کی دولت عطا فرما کر انہیں بلند کرتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣٤:١ ) ٢ - [ طب ]  وہ ادویات جو اپنی تاثیر سے حالت سکون پیدا کرتی ہیں یا زور حسیت کو کم کرتی ہیں، عضلات کو ڈھیلا کرتی ہیں، دباؤ کی کیفیت۔ "یہ (پوٹاسیم) قلب کے آلٹے ایک طاقتور حافض ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، علم الادویہ (ترجمہ)، ١٤٢:١ )

اصل لفظ: خفض